نئی دہلی 17/جولائی (ایس او نیوز) تین طلاق پر ایک جراتمندانہ بیان دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا ہے کہ تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط اور غیر آئینی ہے۔ مولانا نے نیوز 18اُردو سے بات چیت کرتے ہوئے تین طلاق پر بڑا بیان دے کر سپریم کورٹ پرسوال اٹھایا ہے۔
مولانا ولی رحمانی نے دوٹوک کہا کہ سرکار جمہوری قدورں کا اگر احترام کرنا چاہتی ہے تو اُسے یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ملک بھر میں 156 احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں خواتین نے مسلم پرسنل لاء پر عمل کرنے کی جو آواز اُٹھائی ہے اُسے ملک بھر میں نہیں بلکہ پوری دنیا نے دیکھا اور سنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہاہوں کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق پر آئین کے خلاف فیصلہ دیا ہے ۔ مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اور جو سپریم کورٹ کی نظیریں اور پہلے کی مثالیں موجود ہیں اُسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے طور طریقوں کو بھی آئینی حیثیت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹریڈیشن (روایت) کو بھی نہیں مانا ہے حالانکہ تین طلاق کی روایت 1400 سال پرانی ہے اور اس کو خارج نہیں کیا جاسکتا ۔ مولانا نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہئے۔مولانا نے کہا کہ تین طلاق شریعت کا حصہ ہے، تین طلاق کا ثبوت قران مجید اور حدیث شریف میں موجود ہے،اس کے بائوجود سپریم کورٹ نے اسے نہیں مانا ہے تو میں اسے آئین کے لحاظ سے غلط سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اس معاملے میں قانون بنانا غیر قانونی ہے۔